صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2969 ترقیم شاملہ: -- 7439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ؟، قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ يَا رَبِّ: أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟، قَالَ: يَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي، قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِي، قَالَ: فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ، قَالَ: فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بیٹھے ہوئے) تھے کہ آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی بات پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ فرمائے گا: کیوں نہیں! فرمایا: بندہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی (کی گواہی) کو جائز قرار نہیں دیتا۔ تو وہ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ اور اس کے (اپنے) اعضاء سے کہا جائے گا: بولو، فرمایا: تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے، پھر اسے اور (اس کے اعضاء کے) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔ فرمایا: تو (ان کی گواہی سن کر) وہ کہے گا: دور ہو جاؤ، میں تمھاری طرف سے (دوسروں کے ساتھ) لڑا کرتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7439]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، تو آپ ہنسے اور فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی گفتگو پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں! وہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی کی گواہی کو جائز قرار نہیں دیتا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضا و ارکان (جوارح) سے کہا جائے گا کہ بولیں، تو وہ اس کے عملوں کی گواہی دیں گے، پھر اس کو کلام کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ کہے گا: تمہارے لیے دوری اور تباہی ہو، تمہاری طرف سے تو میں دفاع کر رہا تھا،“ یعنی تمہیں ہی آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7439 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7439
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اركان:
اعضاء جوارح (2)
افاضل:
میں تمہارا دفاع اور بچاؤ کررہاتھا۔
مفردات الحدیث:
(1)
اركان:
اعضاء جوارح (2)
افاضل:
میں تمہارا دفاع اور بچاؤ کررہاتھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7439]
Sahih Muslim Hadith 7439 in Urdu
عامر الشعبي ← أنس بن مالك الأنصاري