علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب النهي عن المدح إذا كان فيه إفراط وخيف منه فتنة على الممدوح:
باب: بہت تعریف کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 3001 ترقیم شاملہ: -- 7504
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا، وہ کسی آدمی کی تعریف کر رہا تھا، تعریف میں اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اس کو ہلاک کر ڈالا یا (فرمایا:) تم لوگوں نے اس آدمی کی کمر توڑ دی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7504]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کررہاہے اور تعریف میں بھی اس کو حد سے بڑھارہا ہے،تو آپ نے فرمایا:"تم نے ہلاک کرڈالا یا یہ اس آدمی کی پشت کاٹ ڈالی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7504]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3001
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6060
| أهلكتم أو قطعتم ظهر الرجل |
صحيح البخاري |
2663
| أهلكتم أو قطعتم ظهر الرجل |
صحيح مسلم |
7504
| أهلكتم أو قطعتم ظهر الرجل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7504 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7504
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يطريه:
تعریف میں مبالغہ کرنا۔
(2)
المدحة:
مدح وتعریف۔
مفردات الحدیث:
(1)
يطريه:
تعریف میں مبالغہ کرنا۔
(2)
المدحة:
مدح وتعریف۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7504]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2663
2663. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا کہ دوسرے شخص کی مدح وثنا کررہا تھا اور اس کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے کام لے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اسے ہلاک کردیا۔“ یا فرمایا: ”تم نے اس شخص کی کمر توڑ دی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2663]
حدیث حاشیہ:
چونکہ گواہ کا تعدیل اور تزکیہ کا بیان ہورہا ہے لہٰذا یہ بتلادیاگیا کہ کسی کی تعریف میں حد سے گزرجانا اور کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا شرعاً یہ بھی مذموم ہے کہ اس سے سننے والے کے دل میں عجب و خود پسندی اور کبر پیدا ہونے کا احتمال ہے۔
لہٰذا تعریف میں مبالغہ ہرگز نہ ہو اور تعریف کسی کے منہ پر نہ کی جائے اور اس کی بابت جس قدر معلومات ہوں بس ان پر اضافہ نہ ہو کہ سلامتی اسی میں ہے۔
چونکہ گواہ کا تعدیل اور تزکیہ کا بیان ہورہا ہے لہٰذا یہ بتلادیاگیا کہ کسی کی تعریف میں حد سے گزرجانا اور کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا شرعاً یہ بھی مذموم ہے کہ اس سے سننے والے کے دل میں عجب و خود پسندی اور کبر پیدا ہونے کا احتمال ہے۔
لہٰذا تعریف میں مبالغہ ہرگز نہ ہو اور تعریف کسی کے منہ پر نہ کی جائے اور اس کی بابت جس قدر معلومات ہوں بس ان پر اضافہ نہ ہو کہ سلامتی اسی میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2663]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6060
6060. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے کی تعریف کر رہا تھا ااور تعریف کرتے وقت خوب مبالغہ آمیزی کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم نے اسے ہلاک کر دیا۔“ یا فرمایا ”تم نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6060]
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا مجھ کو ان دونوں شخصوں کے نام معلوم نہیں ہوئے لیکن امام احمد اور بخاری کی روایت ”ادب المفرد“ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعریف کرنے والا محجن بن اورح تھا اور جس کی تعریف کی تھی شاید وہ عبداللہ بن ذوالبجادین ہوگا۔
(وحیدی)
حافظ نے کہا مجھ کو ان دونوں شخصوں کے نام معلوم نہیں ہوئے لیکن امام احمد اور بخاری کی روایت ”ادب المفرد“ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعریف کرنے والا محجن بن اورح تھا اور جس کی تعریف کی تھی شاید وہ عبداللہ بن ذوالبجادین ہوگا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6060]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2663
2663. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا کہ دوسرے شخص کی مدح وثنا کررہا تھا اور اس کی تعریف میں مبالغہ آمیزی سے کام لے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اسے ہلاک کردیا۔“ یا فرمایا: ”تم نے اس شخص کی کمر توڑ دی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2663]
حدیث حاشیہ:
اگر انسان کی اس کے سامنے حد سے زیادہ تعریف کی جائے تو وہ تکبر اور خودپسندی کا شکار ہو جاتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہو کر خود کو مبالغہ آمیز تعریف کا مصداق خیال کرتا ہے، اس طرح شیطان کے دھوکے میں پھنس کر رہ جاتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد سے زیادہ تعریف کرنے سے منع کیا ہے، ہاں جس قدر جانتا ہو اس کے مطابق تعریف میں کوئی حرج نہیں۔
اس طرح ابو بکرہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی دونوں احادیث میں تطبیق ممکن ہے۔
واللہ أعلم
اگر انسان کی اس کے سامنے حد سے زیادہ تعریف کی جائے تو وہ تکبر اور خودپسندی کا شکار ہو جاتا ہے اور فخر و غرور میں مبتلا ہو کر خود کو مبالغہ آمیز تعریف کا مصداق خیال کرتا ہے، اس طرح شیطان کے دھوکے میں پھنس کر رہ جاتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد سے زیادہ تعریف کرنے سے منع کیا ہے، ہاں جس قدر جانتا ہو اس کے مطابق تعریف میں کوئی حرج نہیں۔
اس طرح ابو بکرہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی دونوں احادیث میں تطبیق ممکن ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2663]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6060
6060. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے کی تعریف کر رہا تھا ااور تعریف کرتے وقت خوب مبالغہ آمیزی کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم نے اسے ہلاک کر دیا۔“ یا فرمایا ”تم نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6060]
حدیث حاشیہ:
(1)
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا بے ہودہ شاعروں اور خوشامدی لوگوں کا کام ہے، اس طرح کی تعریف سے دوسرا شخص مغرور ہو جاتا ہے بلکہ وہ جہل مرکب کا شکار ہو کر دنیوی اور دینی کمالات سے محروم رہ جاتا ہے، یہی اس کی ہلاکت اور کمر توڑنا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے منہ پر ان کی تعریف کرنا شروع کر دی تو حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی اٹھائی اور اس کے منہ پر دے ماری اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
”جب تمھارا سامنا ایسے لوگوں سے ہو جو مدح سرائی اور خوشامد کرنے والے ہوں تو ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔
“ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4804) (2)
اگر کسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے اچھے کام کی مناسب تعریف کر دی جائے تو ان شاء اللہ جائز ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا بے ہودہ شاعروں اور خوشامدی لوگوں کا کام ہے، اس طرح کی تعریف سے دوسرا شخص مغرور ہو جاتا ہے بلکہ وہ جہل مرکب کا شکار ہو کر دنیوی اور دینی کمالات سے محروم رہ جاتا ہے، یہی اس کی ہلاکت اور کمر توڑنا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے منہ پر ان کی تعریف کرنا شروع کر دی تو حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی اٹھائی اور اس کے منہ پر دے ماری اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
”جب تمھارا سامنا ایسے لوگوں سے ہو جو مدح سرائی اور خوشامد کرنے والے ہوں تو ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔
“ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4804) (2)
اگر کسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے اچھے کام کی مناسب تعریف کر دی جائے تو ان شاء اللہ جائز ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6060]
Sahih Muslim Hadith 7504 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري