صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3018 ترقیم شاملہ: -- 7528
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي، قَالَ اللَّهُ فِيهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ، قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے، جو تمھیں اچھی لگیں دو، دو، تین، تین، چار، چار سے نکاح کر لو" کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میرے بھانجے! یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے (موروثی) مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی (چچا زاد وغیرہ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کر لے اور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرا اسے دے گا، چنانچہ ان (لوگوں) کو اس بات سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ (مہر میں) ان سے انصاف کریں اور مہر میں جو سب سے اونچا طریقہ (رائج) ہے اس کی پابندی کریں اور (اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو) انھیں حکم دیا گیا کہ ان (یتیم لڑکیوں) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کر لیں۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (عورتوں کے حوالے سے مزید) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: "اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہیے: اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو۔" (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: "اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" (کا مطلب ہے کہ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہو تو اس سے (شادی کرنے سے) روگردانی کرنا، چنانچہ ان سے (نکاح کی) رغبت نہ ہونے کی بنا پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن (یتیم لڑکیوں) کے مال اور جمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ (مہر میں) انصاف سے کام لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7528]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے، جو تمہیں اچھی لگیں دو دو، تین تین اور چار چار سے نکاح کر لو“ کے بارے میں پوچھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اور اس کے (موروثی) مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے، تو اس کے ولی (چچازاد وغیرہ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کر لے اور وہ اسے اتنا مہر نہ دے جتنا کوئی دوسرا اسے دے گا، چنانچہ ان (لوگوں) کو اس بات سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ (مہر میں) ان سے انصاف کریں اور مہر میں جو سب سے اونچا طریقہ (رائج) ہے اس کی پابندی کریں، اور (اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو) انہیں حکم دیا گیا کہ ان (یتیم لڑکیوں) کے سوا جو عورتیں انہیں اچھی لگیں ان سے شادی کر لیں۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (عورتوں کے حوالے سے مزید) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہیے: اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] ”اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو“ (کا مطلب ہے کہ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہو تو اس سے (شادی کرنے سے) روگردانی کرنا، چنانچہ ان سے (نکاح کی) رغبت نہ ہونے کی بنا پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن (یتیم لڑکیوں) کے مال اور جمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ ان سے انصاف و عدل کریں، کیونکہ وہ ان سے (جمال و مال کی کمی کی صورت میں) بے رخی برتتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7528 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7528
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کامقصد یہ کہ جاہلیت کے دورمیں،
جب کسی بچی کے چچازاد،
سرپرست بن کر اس کی پرورش اور کفالت کرتے،
تو اگر وہ مال دار اور حسین وجمیل ہوتی،
اس سے شادی کرلیتے،
لیکن ان کو ان کی حیثیت ومعیار کے مطابق مہر نہ دیتے،
بلکہ بہت کم مہر دیتے،
لیکن اگر وہ مال دار اور حسین و جمیل نہ ہوتی،
تو اس سے شادی نہ کرتے،
اس لیے فرمایا،
جب تم ان کے حسن و جمال اور مال میں کمی کی بنا پران کو نظراندازکرتے ہو،
تو حسن وجمال اور مال کی صورت میں بھی،
ان کا پوراپورا حق اداکرو اور مہرمثل اداکرو،
وگرنہ ان کے سوااور عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں،
چار تک شادی کرسکتے ہو۔
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کامقصد یہ کہ جاہلیت کے دورمیں،
جب کسی بچی کے چچازاد،
سرپرست بن کر اس کی پرورش اور کفالت کرتے،
تو اگر وہ مال دار اور حسین وجمیل ہوتی،
اس سے شادی کرلیتے،
لیکن ان کو ان کی حیثیت ومعیار کے مطابق مہر نہ دیتے،
بلکہ بہت کم مہر دیتے،
لیکن اگر وہ مال دار اور حسین و جمیل نہ ہوتی،
تو اس سے شادی نہ کرتے،
اس لیے فرمایا،
جب تم ان کے حسن و جمال اور مال میں کمی کی بنا پران کو نظراندازکرتے ہو،
تو حسن وجمال اور مال کی صورت میں بھی،
ان کا پوراپورا حق اداکرو اور مہرمثل اداکرو،
وگرنہ ان کے سوااور عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں،
چار تک شادی کرسکتے ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7528]
Sahih Muslim Hadith 7528 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق