🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6ق. باب الكشف عن معايب رواة الحديث ونقلة الاخبار وقول الائمة في ذلك ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 77
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِي، قَالَ: سَمِعْتُ شَبَابَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا، فَيَقُولُ: سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ: قَالَ شَبَابَةُ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا! قَالَ: يَعْنِي تُتَّخَذُ كُوَّةٌ فِي حَائِطٍ، لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ، قَال مُسْلِمٌ: وسَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ: مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَاعِيل،
حسن حلوانی نے بیان کیا، کہا: میں نے شبابہ سے سنا (کہا: عبدالقدوس ہمارے سامنے حدیث بیان کرتا تھا اور کہتا تھا: سوید بن عقلہ) شبابہ نے کہا: میں نے عبدالقدوس سے سنا، کہتا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح کو عرض بنانے سے منع فرمایا ہے (کہا) اس سے کہا گیا: اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا: مطلب یہ ہے کہ دیوار میں سوراخ رکھا جائے تاکہ اس میں ہوا داخل ہو۔ (امام) مسلم نے کہا: میں نے عبیداللہ بن عمر قواریری سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حماد بن زید سے سنا، وہ (مہدی بن ہلال کے علمی مجلس منعقد کرنے سے چند دن بعد) ایک آدمی سے کہہ رہے تھے: یہ نمکین چشمہ کیا ہے جو آپ کی طرف سے پھوٹا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اے ابواسماعیل! (آپ کی بات ٹھیک ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
شبابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالقدوس ہمیں حدیث سناتا اور راوی کا نام سوید بن غفلہ لیتا تھا اور متن یوں سناتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الرُّوحَ عَرَضًا» (روح کو عرض بنانے) سے منع فرمایا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟ یعنی اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہوا کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں سوراخ یا کھڑکی رکھنا منع فرمایا ہے۔ عبید اللہ بن عمیر قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن زید رحمہ اللہ کو کسی آدمی سے کہتے ہوئے سنا، جبکہ وہ شخص مہدی بن ہلال کے پاس چند روز بیٹھ چکا تھا: یہ تمہاری طرف پھوٹنے والا نمکین چشمہ کیسا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے ابو اسماعیل! (یہ حماد بن زید رحمہ اللہ کی کنیت ہے) وہ ایسا ہی ہے، یعنی واقعی ضعیف ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18589 و 18798)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 77 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 77
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عبدالقدوس نے سند اور متن دونوں میں غلطی کی ہے۔
راوی کا نام عقلہ نہیں ہے،
بلکہ غفلہ ہے،
یعنی عین کی جگہ غین ہے اور قاف کی جگہ فاء ہے۔
متن میں،
روح ہے یعنی واء پر پیش ہے،
اور اس نے زبر پڑھا،
اور غرض (نشانہ)
کو عرض بنا دیا،
حدیث کا معنی یہ ہے:
جاندار کو باندھ کر نشانہ بنا کر مارنے سے منع فرمایا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

Sahih Muslim Hadith 77 in Urdu