صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التيمم:
باب: تیمم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 820
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَقَالَ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ، ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ، وَكَفَّيْكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ، قَالَ الْحَكَمُ ، وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، عَنْ ذَرٍّ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے حکم نے ذر (بن عبداللہ بن زرارہ) سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو انہوں نے جواب دیا: نماز نہ پڑھ۔ اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو۔ (عمار رضی اللہ عنہ نے) جواب دیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا۔ حکم نے کہا: یہی روایت مجھے (ذر کے واسطے کے بغیر) ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی۔ کہا: مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے جس چیز (کی ذمہ داری) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں (آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 820]
سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا، انہوں نے جواب دیا: نماز نہ پڑھ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک جنگی دستے کے ساتھ تھے تو ہم دونوں جنبی ہو گئے اور ہمیں پانی نہ ملا، آپ نے تو نماز نہ پڑھی تھی مگر میں مٹی میں لوٹ پوٹ گیا اور میں نے نماز پڑھ لی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈر، عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا، حکم رحمہ اللہ نے کہا: یہی روایت مجھے ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، ذر رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح سنائی، راوی نے کہا: اور مجھے سلمہ رحمہ اللہ نے ذر رحمہ اللہ سے حکم رحمہ اللہ والی سند سے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ جس چیز کے والی (ذمہ دار) بنتے ہیں، ہم اس کو تیرے سپرد کرتے ہیں (تم اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
343
| ضرب النبي بيده الأرض فمسح وجهه وكفيه |
صحيح البخاري |
339
| ضرب بيديه الأرض ثم أدناهما من فيه ثم مسح بهما وجهه وكفيه |
صحيح البخاري |
338
| يكفيك هكذا فضرب النبي بكفيه الأرض ونفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه |
صحيح مسلم |
820
| يكفيك أن تضرب بيديك الأرض ثم تنفخ ثم تمسح بهما وجهك وكفيك |
سنن أبي داود |
327
| ضربة واحدة للوجه والكفين |
سنن أبي داود |
322
| يكفيك أن تقول هكذا وضرب بيديه إلى الأرض ثم نفخهما ثم مسح بهما وجهه ويديه إلى نصف الذراع |
سنن النسائى الصغرى |
319
| يكفيك وضرب بكفه ضربة ونفخ فيها ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه |
سنن النسائى الصغرى |
320
| يكفيك وضرب النبي بيديه إلى الأرض ثم نفخ فيهما فمسح بهما وجهه وكفيه |
سنن النسائى الصغرى |
317
| الصعيد لكافيك وضرب بكفيه إلى الأرض ثم نفخ فيهما ثم مسح وجهه وبعض ذراعيه |
سنن النسائى الصغرى |
313
| يكفيك فضرب النبي يديه إلى الأرض ثم نفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه لا يدري فيه إلى المرفقين أو إلى الكفين |
سنن النسائى الصغرى |
318
| يكفيك هكذا وضرب بيديه على ركبتيه ونفخ في يديه ومسح بهما وجهه وكفيه مرة واحدة |
سنن ابن ماجه |
569
| يكفيك وضرب النبي بيديه إلى الأرض ثم نفخ فيهما ومسح بهما وجهه وكفيه |
سنن أبي داود |
324
| إنما كان يكفيك، وضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيده إلى الارض |
مسندالحميدي |
144
| إنما كان يكفيك من ذلك التيمم |
Sahih Muslim Hadith 820 in Urdu
سلمة بن كهيل الحضرمي ← ذر بن عبد الله المرهبي