صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التَّيَمُّمِ:
باب: تیمم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 367 ترقیم شاملہ: -- 816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي، قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ، إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ ".
عبدالرحمان بن قاسم (بن محمد) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ رک گئے، نہ وہ پانی (والی جگہ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی (بچا ہوا) تھا۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ کو پتہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ (دوسرے) لوگوں کو روک رکھا ہے، نہ وہ پانی (والی جگہ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے، جو نقباء میں سے تھے، کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 816]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں نکلے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رک گئے، اس جگہ پانی نہ تھا، اور لوگوں کے پاس بھی (پہلے سے) موجود نہ تھا۔ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا، کیا آپ کو پتہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ لوگوں کو روک رکھا ہے، نہ اس جگہ پانی ہے اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی موجود ہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ اس حالت میں تشریف لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے، اور کہا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ یہاں پانی نہیں ہے اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، اور مجھے صرف اس چیز نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے بغیر ہی صبح تک سوئے رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقباء میں سے ہیں، نے کہا اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اولاد! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 367 ترقیم شاملہ: -- 817
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ، قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً ".
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتاً ہار لیا، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی، (اس پر) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اللہ آپ کو بہترین جزا دے، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 817]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس نے اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتاً ہار لیا، اور وہ ضائع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کی خاطر بھیجا، انہیں نماز کے وقت نے آ لیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی، اس پر تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا، (اے عائشہ!) اللہ آپ کو بہترین اجر دے، اللہ کی قسم! آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل (راہ) پیدا کر دیتا ہے، اور وہ چیز مسلمانوں کے لیے باعث برکت بنتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 818
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ، لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ، أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوعبدالرحمن! بتائیے اگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ تیمم نہ کرے، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ اس پر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے: ”تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟“ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا (اور نماز پڑھ لی)، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا۔ تو عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ (تفصیل آگے حدیث: 820 میں ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 818]
شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے پوچھا، بتائیے، اگر انسان جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ تیمم نہ کرے؟ تو نماز کا کیا کرے؟ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، وہ تیمم نہ کرے، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب، «فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا» (اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو)۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی جائے تو خطرہ ہے، جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت کے لیے بھیجا، میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہ ملا تو میں، چوپائے کی طرح زمین پر لوٹ پوٹ ہوا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ پھر اپنے دونوں ہاتھ ایک ہی دفعہ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کے قول پر قناعت و اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 818]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 819
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ، فَنَفَضَ يَدَيْهِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ، وَكَفَّيْهِ ".
عبدالواحد نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے پوچھا ... پھر ابومعاویہ کی (سابقہ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی، مگر یہ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔“ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، (پھر) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 819]
شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، پھر اوپر والی حدیث واقعہ سمیت بیان کی اتنا فرق ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس طرح کرنا ہی کافی تھا، اور دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 819]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 820
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَقَالَ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ، ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ، وَكَفَّيْكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ، قَالَ الْحَكَمُ ، وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ ، عَنْ ذَرٍّ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے حکم نے ذر (بن عبداللہ بن زرارہ) سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو انہوں نے جواب دیا: نماز نہ پڑھ۔ اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو۔ (عمار رضی اللہ عنہ نے) جواب دیا: اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا۔ حکم نے کہا: یہی روایت مجھے (ذر کے واسطے کے بغیر) ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی۔ کہا: مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے جس چیز (کی ذمہ داری) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں (آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 820]
سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا، میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو انہوں نے جواب دیا، نماز نہ پڑھ تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا، اے امیر المومنین! کیا آپ کو یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک جنگی پارٹی کے ساتھ تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور ہمیں پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ گیا، اور نماز پڑھ لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈر، عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا، حکم رحمہ اللہ نے کہا یہی روایت مجھے ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ نے اپنے باپ رحمہ اللہ سے، ذر رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح سنائی، راوی نے کہا اور مجھے سلمہ رحمہ اللہ نے ذر رحمہ اللہ سے حکم رحمہ اللہ والی سند سے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ جس چیز کے والی (ذمہ دار) بنتے ہیں، ہم اس کو تیرے سپرد کرتے ہیں (تم اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 820]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 821
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ : وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ، لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا، وَلَمْ يَذْكُرْ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ.
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ اس کے بعد (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا۔ اور (شعبہ نے یہاں) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی (کے الفاظ) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 821]
ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا، میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ یہ کیا، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ چاہیں کیونکہ اللہ نے مجھ پر آپ کا حق رکھا ہے، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا، لیکن اس میں مجھے سلمہ رحمہ اللہ نے ذر رحمہ اللہ سے سنایا، والا ٹکڑا نہیں بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 821]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 369 ترقیم شاملہ: -- 822
قَالَ مُسْلِم: وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبدالرحمن بن یسار، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام تھے، حضرت ابوجہم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ابوجہم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل (نامی جگہ) سے تشریف لائے تو آپ کو ایک آدمی ملا، اس نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 822]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبدالرحمن بن یسار رحمہ اللہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ہیں، ابوجہم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ابوجہم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل نامی جگہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار کی طرف بڑھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 822]
ترقیم فوادعبدالباقی: 369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 370 ترقیم شاملہ: -- 823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَجُلًا مَرَّ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 823]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص گزرا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے تو اس نے سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 823]
ترقیم فوادعبدالباقی: 370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة