صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التيمم:
باب: تیمم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 368 ترقیم شاملہ: -- 818
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ، لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ، أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوعبدالرحمن! بتائیے اگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ تیمم نہ کرے، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔ اس پر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے: ”تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟“ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا (اور نماز پڑھ لی)، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا۔ تو عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ (تفصیل آگے حدیث: 820 میں ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 818]
شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے پوچھا: بتائیے، اگر انسان جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم نہ کرے؟ تو نماز کا کیا کرے؟ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ تیمم نہ کرے، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے؛ تو اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔“ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی جائے تو خطرہ ہے، جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے؛ تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت کے لیے بھیجا، میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا تو میں، چوپائے کی طرح زمین پر لوٹ پوٹ ہوا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔“ پھر اپنے دونوں ہاتھ ایک ہی دفعہ زمین پر مارے، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا؛ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کے قول پر قناعت و اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 818]
ترقیم فوادعبدالباقی: 368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 818 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 818
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا اگر پانی نہ ملے تو غسل جنابت کی جگہ وہی تیمم کافی ہو گا جو وضو کے قائم مقام ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ مٹی پر مارا جائے گا اور اگر ان پر تنکے لگ جائیں یا مٹی زیادہ لگ جائے تو ان پر پھونک مار کر منہ اور دونوں ہاتھوں پر کلائی تک مسح کر لیں گے اور اس سے نماز پڑھ لیں گے۔
(2)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر قناعت نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا،
آپ بھی اس سفر میں میرے ساتھ تھے اور آپ کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ واقعہ یاد نہیں تھا اس لیے انھوں نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرنے سے نہیں روکا صرف اپنی موجوگی کا انکار کیا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا مؤقف اس روایت کے مطابق ہے اور یہی صحیح اور مختار ہے۔
(3)
جنابت کی صورت میں اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھنے پر امت کا اجماع ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سد ذریعہ کے طور پر جنابت کی صورت میں تیمم کی اجازت نہیں دیتے تاکہ لوگ اس رخصت سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں وگرنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،
حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ان احادیث کے بیان کرنے سے روک دیتے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا اگر پانی نہ ملے تو غسل جنابت کی جگہ وہی تیمم کافی ہو گا جو وضو کے قائم مقام ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ مٹی پر مارا جائے گا اور اگر ان پر تنکے لگ جائیں یا مٹی زیادہ لگ جائے تو ان پر پھونک مار کر منہ اور دونوں ہاتھوں پر کلائی تک مسح کر لیں گے اور اس سے نماز پڑھ لیں گے۔
(2)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر قناعت نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا،
آپ بھی اس سفر میں میرے ساتھ تھے اور آپ کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ واقعہ یاد نہیں تھا اس لیے انھوں نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرنے سے نہیں روکا صرف اپنی موجوگی کا انکار کیا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،
امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کا مؤقف اس روایت کے مطابق ہے اور یہی صحیح اور مختار ہے۔
(3)
جنابت کی صورت میں اگر پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھنے پر امت کا اجماع ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سد ذریعہ کے طور پر جنابت کی صورت میں تیمم کی اجازت نہیں دیتے تاکہ لوگ اس رخصت سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں وگرنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،
حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ان احادیث کے بیان کرنے سے روک دیتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 818]
Sahih Muslim Hadith 818 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← عمار بن ياسر العنسي