صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب نهي الماموم عن جهره بالقراءة خلف إمامه:
باب: امام کے پیچھے مقتدی کا بلند آواز سے قرأت کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 398 ترقیم شاملہ: -- 889
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، وَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ".
قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: ”میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 889]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: ”میں نے جان لیا تم میں سے کوئی میرے ساتھ قراءت میں الجھ رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 889]
ترقیم فوادعبدالباقی: 398
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر سعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو محمد بن إبراهيم السلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن إبراهيم السلمي | ثقة ثبت | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 889 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 889
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام کے پیچھے اگر قرآءت بلند آواز سے کی جائے تو قرآءتوں کا باہمی ٹکراؤ ہو گا اور امام کی قرآءت میں خلل پیدا ہو گا اگر قرآءت آہستہ ہو تو الجھاؤ اور ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے مقتدی تمام نمازوں میں قرآءت آہستہ کرے گا امام کی جہری قرآءت کے وقت فاتحہ پڑھے گا اور جب امام بلند قرآءت نہ کر رہا ہو تو جتنا قرآن پڑھنا ممکن ہو پڑھ لے گا۔
فوائد ومسائل:
امام کے پیچھے اگر قرآءت بلند آواز سے کی جائے تو قرآءتوں کا باہمی ٹکراؤ ہو گا اور امام کی قرآءت میں خلل پیدا ہو گا اگر قرآءت آہستہ ہو تو الجھاؤ اور ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے مقتدی تمام نمازوں میں قرآءت آہستہ کرے گا امام کی جہری قرآءت کے وقت فاتحہ پڑھے گا اور جب امام بلند قرآءت نہ کر رہا ہو تو جتنا قرآن پڑھنا ممکن ہو پڑھ لے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 889]
سعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي