صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
21. باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس وان من صلى خلف إمام جالس لعجزه عن القيام لزمه القيام إذا قدر عليه ونسخ القعود خلف القاعد في حق من قدر على القيام:
باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 418 ترقیم شاملہ: -- 939
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي، أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ، رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى، أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ، إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ".
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے) اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار بات کی۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا (برے شگون کا حامل) سمجھیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت (کی ذمہ داری) ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہٹا دیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 939]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے اس معاملہ (ایام مرض میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے معاملہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بار بار پوچھا) اور میں بار بار صرف اس بنا پر پوچھ رہی تھی کیونکہ میرا دل یہ نہیں مانتا تھا کہ لوگ کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوگا، کیونکہ میرا خیال یہ تھا کہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوگا لوگ اس سے بدشگونی لیں گے، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پھیر دیں (کسی اور کو امام مقرر کریں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 418
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4445
| راجعت رسول الله في ذلك وما حملني على كثرة مراجعته إلا أنه لم يقع في قلبي أن يحب الناس بعده رجلا قام مقامه أبدا ولا كنت أرى أنه لن يقوم أحد مقامه إلا تشاءم الناس به فأردت أن يعدل ذلك رسول الله عن أبي بكر |
صحيح مسلم |
939
| راجعت رسول الله في ذلك وما حملني على كثرة مراجعته إلا أنه لم يقع في قلبي أن يحب الناس بعده رجلا قام مقامه أبدا وإلا أني كنت أرى أنه لن يقوم مقامه أحد إلا تشاءم الناس به فأردت أن يعدل ذلك رسول الله عن أبي بكر |
Sahih Muslim Hadith 939 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق