🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة وانها لا تخرج مطيبة:
باب: جب فتنہ کا ڈر نہ ہو تو عورتوں کے مساجد میں جانے کا جواز بشرطیکہ وہ خوشبو نہ لگائیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 445 ترقیم شاملہ: -- 999
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ: أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے (بناؤ سنگھار کے) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 999]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، آج عورتوں نے جو نئے انداز (بناؤ سنگھار کے لیے) نکال لیے ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنو اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ تو میں نے امرہ رحمہ اللہ سے پوچھا کیا بنو اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ اس نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 445
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 999 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 999
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عورتوں کے چال چلن،
ان کے زیب وزینت اور ہار سنگھار کو دیکھ کر فرمایا تھا،
اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی اس حالت کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجدوں میں حاضر ہونے سے روک دیتے،
یہ بات خیرالقرون کے دور کی ہے،
اگر آج کے حالات،
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دیکھ لیتیں تو ان پر کیا گزرتی،
اگر ایسی صورتحال میں مسجدوں میں جانا درست نہیں ہے تو کیا کلبوں،
شاپنگ سنٹروں،
ہوائی جہازوں،
ٹرینوں،
مخلوط تعلیم کی درسگاہوں،
ہوٹلوں،
بینکوں،
ہسپتالوں،
دفتروں اور تفریح گاہوں میں جانا جائز ہو گا۔
لیکن افسوس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول صرف مسجدوں میں حاضری کے وقت یاد آتا ہے اور کسی جگہ اس کو یاد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی،
جب کہ اصل صورت حال یہ ہے کہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالات نہیں دیکھے تو اللہ تعالیٰ جو علام الغیوب ہے اس کو تو ان حالات کا پتہ تھا اس نے اپنے رسول کو کیوں یہ حکم نہ دیا کہ اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں گے،
اس لیے تم عورتوں کومسجدوں سے روک دو۔
مزید براں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود بھی نہیں روکا،
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ زمانہ نہ پایا اور نہ منع فرمایا،
اور شریعت کے احکام کسی کی رائے اور قیاس سے نہیں بدل سکتے،
اس لیے عورتوں کو مسجدوں سے روکنے کی بجائے،
دوسری فساد کی جگہوں سے روکا جائے اور مسجدوں میں آنے کے لیے شرعی آداب کی تلقین کی جائے،
مزید براں ہارسنگھار اور میک اپ سب عورتین تو نہیں کرتیں سب کو کیوں روکا جاتا ہے۔
اور بنی اسرائیلی عورتوں کو شریعت کے ذویعہ روکا گیا تھا نہ کہ کسی شخص کی رائے اور قیاس سے،
نیز اس حدیث سے ثابت ہوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب نہیں سمجھتی تھیں،
وگرنہ یہ نہ فرماتیں اگر وہ دیکھ لیتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]