🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5.16. (ضابطة فى النعمة والشر)
نیکی اور برائی کے بارے میں ایک ضابطہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
158 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تو اسے بھی اس ہدایت کی اتباع کرنے والوں کی مثل ثواب ملے گا، اور یہ ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا، اور جو شخص کسی گمراہی کی طرف دعوت دے تو اسے بھی اس گمراہی کی اتباع کرنے والوں کی مثل گناہ ملے گا، اور یہ ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (16/ 2674)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6804
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
جامع الترمذي
2674
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من يتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من يتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
سنن أبي داود
4609
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
سنن ابن ماجه
206
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من اتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة فعليه من الإثم مثل آثام من اتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
سنن الدارمي
530
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من اتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من اتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
مشكوة المصابيح
158
من دعا إلى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شيئا ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 158 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 158
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 6804]

فقہ الحدیث:
➊ کتاب و سنت کی طرف دعوت دینا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔
➋ جو شخص کوئی برائی ایجاد کرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں اس وقت تک گناہ ہی گناہ درج ہوتے رہتے ہیں، جب تک لوگ اس برائی پر عمل کرتے رہتے ہیں۔
➌ ہر وقت اسی بات میں مصروف رہنا چاہئیے کہ میرا عمل کتاب و سنت کے مطابق رہے، کہیں کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو جائے۔
➍ بدعات سے اجتناب ضروری ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 158]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4609
سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4609]
فوائد ومسائل:
دعوت دینے کا مفہوم بالعموم زبانی دعوت دینا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاموش دعوت بھی ہوتی ہے کہ لوگ دوسروں کو دیکھ کر بہت سے کام شروع کردیتے ہیں لہذا انسان کو متنبہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ماحول میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
کیا وہ اپنے لیے نیکیاں جمع کر رہا ہے یا لوگوں کی برائیاں اس کے کھاتے میں پڑرہی ہیں۔
اس حدیث میں اصحاب خیر کے لیے بشارت اور بد عمل اور بد کردار لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4609]

Mishkat al-Masabih Hadith 158 in Urdu