یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لزوم السنة
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4609
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں (بھی) کوئی کمی نہیں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4609]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو راہِ حق کی دعوت دے اسے اس قدر ثواب ہے جس قدر اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، ان اتباع کرنے والوں میں سے کسی کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے کسی گمراہی کی دعوت دی تو اسے اس قدر گناہ ہو گا جس قدر اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اس وجہ سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العلم 6 (2674)، سنن الترمذی/العلم 15 (2674)، (تحفة الأشراف: 13976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/397)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (530) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2674)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6804
| من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
جامع الترمذي |
2674
| من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من يتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من يتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
سنن أبي داود |
4609
| من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
سنن ابن ماجه |
206
| من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من اتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة فعليه من الإثم مثل آثام من اتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
سنن الدارمي |
530
| من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من اتبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا من دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من اتبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
مشكوة المصابيح |
158
| من دعا إلى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شيئا ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4609 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4609
فوائد ومسائل:
دعوت دینے کا مفہوم بالعموم زبانی دعوت دینا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاموش دعوت بھی ہوتی ہے کہ لوگ دوسروں کو دیکھ کر بہت سے کام شروع کردیتے ہیں لہذا انسان کو متنبہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ماحول میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
کیا وہ اپنے لیے نیکیاں جمع کر رہا ہے یا لوگوں کی برائیاں اس کے کھاتے میں پڑرہی ہیں۔
اس حدیث میں اصحاب خیر کے لیے بشارت اور بد عمل اور بد کردار لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے۔
دعوت دینے کا مفہوم بالعموم زبانی دعوت دینا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاموش دعوت بھی ہوتی ہے کہ لوگ دوسروں کو دیکھ کر بہت سے کام شروع کردیتے ہیں لہذا انسان کو متنبہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ماحول میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔
کیا وہ اپنے لیے نیکیاں جمع کر رہا ہے یا لوگوں کی برائیاں اس کے کھاتے میں پڑرہی ہیں۔
اس حدیث میں اصحاب خیر کے لیے بشارت اور بد عمل اور بد کردار لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4609]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 158
نیکی اور برائی کے بارے میں ایک ضابطہ
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئا» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی شخص کو ہدایت کی طرف بلائے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا، جتنا کہ اس کو جو اس کی پیروی اور تابعداری کرے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہو گی، یعنی داعی اور مدعو دونوں کو پورا پورا ثواب ملے گا، اور جو شخص کسی کو گمراہی کی طرف بلائے تو اس کو بھی اتنا ہی گناہ ہو گا، جتنا کہ اس کی تابعداری کرنے والے کو ملا ہے یعنی ضال مضل دونوں گناہ میں برابر ہیں اور ان کے گناہ سے کمی نہیں ہو گی۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 158]
«. . . وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئا» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی شخص کو ہدایت کی طرف بلائے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا، جتنا کہ اس کو جو اس کی پیروی اور تابعداری کرے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہو گی، یعنی داعی اور مدعو دونوں کو پورا پورا ثواب ملے گا، اور جو شخص کسی کو گمراہی کی طرف بلائے تو اس کو بھی اتنا ہی گناہ ہو گا، جتنا کہ اس کی تابعداری کرنے والے کو ملا ہے یعنی ضال مضل دونوں گناہ میں برابر ہیں اور ان کے گناہ سے کمی نہیں ہو گی۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 158]
تخریج الحدیث:
[صحيح مسلم 6804]
فقہ الحدیث:
➊ کتاب و سنت کی طرف دعوت دینا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔
➋ جو شخص کوئی برائی ایجاد کرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں اس وقت تک گناہ ہی گناہ درج ہوتے رہتے ہیں، جب تک لوگ اس برائی پر عمل کرتے رہتے ہیں۔
➌ ہر وقت اسی بات میں مصروف رہنا چاہئیے کہ میرا عمل کتاب و سنت کے مطابق رہے، کہیں کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو جائے۔
➍ بدعات سے اجتناب ضروری ہے۔
[صحيح مسلم 6804]
فقہ الحدیث:
➊ کتاب و سنت کی طرف دعوت دینا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔
➋ جو شخص کوئی برائی ایجاد کرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں اس وقت تک گناہ ہی گناہ درج ہوتے رہتے ہیں، جب تک لوگ اس برائی پر عمل کرتے رہتے ہیں۔
➌ ہر وقت اسی بات میں مصروف رہنا چاہئیے کہ میرا عمل کتاب و سنت کے مطابق رہے، کہیں کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو جائے۔
➍ بدعات سے اجتناب ضروری ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 158]
Sunan Abi Dawud Hadith 4609 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي