مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ حَقِيقَةِ سُورَةِ الإِخْلَاصِ)
سورۂ اخلاص کی حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 2129
2129 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ"فَسَأَلُوهُ فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تو قراءت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتا، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟“ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کیونکہ وہ «صِفَةُ الرَّحْمٰنِ» ”رحمٰن کی صفت“ ہے، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بتا دو کہ «أَنَّ اللهَ يُحِبُّهُ» اللہ تعالیٰ اسے پسند فرماتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7375) و مسلم (813/263)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2129 in Urdu