علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بيان حقيقة سورة الإخلاص)
سورۂ اخلاص کی حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 2129
2129 - وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ"فَسَأَلُوهُ فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تو قراءت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتا، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو کے وہ ایسے کیوں کرتا تھا؟“ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کیونکہ وہ رحمان کی صفت ہے، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بتا دو کہ اللہ اسے پسند فرماتا ہے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7375) و مسلم (813/263)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2129 in Urdu