مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.18. (وَعِيدٌ عَلَى التَّفْسِيرِ بِالرَّأْيِ)
اپنی رائے سے تفسیر کرنے پر وعید
حدیث نمبر: 235
235 - وَعَنْ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور اگر وہ درست بھی ہو تب بھی اس نے غلطی کی۔“ اس حدیث کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2952 وقال: ھذا حديث غريب و قد تکلم بعض أھل الحديث في سھيل بن أبي حزم) و أبو داود (3652)
٭ سھيل بن عبد الله ھو ابن مھران و ھو ابن أبي حزم: ضعيف کما في تقريب التهذيب (2672)»
٭ سھيل بن عبد الله ھو ابن مھران و ھو ابن أبي حزم: ضعيف کما في تقريب التهذيب (2672)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2952
| من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ |
سنن أبي داود |
3652
| من قال في كتاب الله برأيه فأصاب فقد أخطأ |
مشكوة المصابيح |
235
| من قال في القرآن برايه فاصاب فقد اخطا |
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 235 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 235
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ امام ترمذی نے فرمایا:
«هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث فى سهيل بن أبى حزم»
”یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل حدیث (محدثین) نے سہیل بن ابی حزم پر جرح کی ہے۔“ [سنن ترمذي ص 660]
◄ ابوبکر سہیل بن ابی حزم القطعی البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 2672]
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ امام ترمذی نے فرمایا:
«هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث فى سهيل بن أبى حزم»
”یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل حدیث (محدثین) نے سہیل بن ابی حزم پر جرح کی ہے۔“ [سنن ترمذي ص 660]
◄ ابوبکر سہیل بن ابی حزم القطعی البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 2672]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 235]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3652
بغیر علم کے اللہ کی کتاب کے سلسلہ میں کچھ کہنا کیسا ہے؟
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3652]
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3652]
فوائد ومسائل:
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ علم ومعرفت کے بغیرکتاب اللہ کی تفسیر کرنا بہت بڑی اور بری جسارت ہے۔
اور ایسے ہی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کےلئے بھی شرعی علوم میں رسوخ لازمی ہے۔
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ علم ومعرفت کے بغیرکتاب اللہ کی تفسیر کرنا بہت بڑی اور بری جسارت ہے۔
اور ایسے ہی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کےلئے بھی شرعی علوم میں رسوخ لازمی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3652]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2952
اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان۔
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2952]
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2952]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2952]
Mishkat al-Masabih Hadith 235 in Urdu