علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الكلام في كتاب الله بغير علم
باب: بغیر علم کے اللہ کی کتاب کے سلسلہ میں کچھ کہنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ مِهْرَانَ أَخِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ".
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی عقل سے کوئی بات کہی اور درستگی کو پہنچ گیا تو بھی اس نے غلطی کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 1 (2952)، (تحفة الأشراف: 3262) (ضعیف)» (اس کے راوی سہیل ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي(2952)
سهيل بن مهران :ضعيف (تقريب التهذيب: 2672)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
ضعيف
ترمذي(2952)
سهيل بن مهران :ضعيف (تقريب التهذيب: 2672)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2952
| من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ |
سنن أبي داود |
3652
| من قال في كتاب الله برأيه فأصاب فقد أخطأ |
مشكوة المصابيح |
235
| من قال في القرآن برايه فاصاب فقد اخطا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3652 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3652
فوائد ومسائل:
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ علم ومعرفت کے بغیرکتاب اللہ کی تفسیر کرنا بہت بڑی اور بری جسارت ہے۔
اور ایسے ہی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کےلئے بھی شرعی علوم میں رسوخ لازمی ہے۔
ملحوظہ۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ علم ومعرفت کے بغیرکتاب اللہ کی تفسیر کرنا بہت بڑی اور بری جسارت ہے۔
اور ایسے ہی فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کےلئے بھی شرعی علوم میں رسوخ لازمی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3652]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 235
اپنی رائے سے تفسیر کرنے پر وعید
«. . . وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فقد أَخطَأ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا: اور اتفاقیہ طور پر اس کی بات صحیح ہو گئی تب بھی اس نے غلطی کی۔“ اس حدیث کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 235]
«. . . وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فقد أَخطَأ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
”. . . سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا: اور اتفاقیہ طور پر اس کی بات صحیح ہو گئی تب بھی اس نے غلطی کی۔“ اس حدیث کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 235]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ امام ترمذی نے فرمایا:
«هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث فى سهيل بن أبى حزم»
”یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل حدیث (محدثین) نے سہیل بن ابی حزم پر جرح کی ہے۔“ [سنن ترمذي ص 660]
◄ ابوبکر سہیل بن ابی حزم القطعی البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 2672]
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ امام ترمذی نے فرمایا:
«هذا حديث غريب، وقد تكلم بعض أهل الحديث فى سهيل بن أبى حزم»
”یہ حدیث غریب ہے، بعض اہل حدیث (محدثین) نے سہیل بن ابی حزم پر جرح کی ہے۔“ [سنن ترمذي ص 660]
◄ ابوبکر سہیل بن ابی حزم القطعی البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 2672]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 235]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2952
اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان۔
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2952]
جندب بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے (اور اپنی صواب دید) سے کی، اور بات صحیح و درست نکل بھی گئی تو بھی اس نے غلطی کی۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2952]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں سہیل ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2952]
Sunan Abi Dawud Hadith 3652 in Urdu
عبد الملك بن حبيب الأسدي ← جندب بن عبد الله البجلي