یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مسألة لحم الأضحية)
قربانی کے گوشت مسئلہ
حدیث نمبر: 2644
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 2644 - عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ: - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ، فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ". فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِي؟ قَالَ:"كُلُوا، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے قربانی کی ہے۔ تیسرے دن کے بعد (یعنی چوتھے روز) اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہیے۔ “ جب آئندہ سال آیا تو صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا کیا اس سال بھی ہم ویسے ہی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو، کیونکہ گزشتہ سال لوگ قحط سالی کی وجہ سے تکلیف میں تھے، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ تم ان کی اعانت کرو۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5569) و مسلم (1974/34)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2644 in Urdu