Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1.32. (الاعتراف بالجهل ليس عيبا)
لاعلمی کا اعتراف کوئی عیب نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
‏‏‏‏وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن سرین رحمہ اللہ نے فرمایا: بے شک یہ علم دین ہے، پس تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (7/ 7 بعده، باب بيان أن الإسناد من الدين، و ترقيم دارالسلام: 26)»
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
26
إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تاخذون دينكم
مشكوة المصابيح
273
إن هذا العلم دين فانظروا عمن تاخذون دينكم
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 273 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 273
فقه الحديث:
➊ صحیح العقیدہ اور ثقہ و صدوق علماء سے ہی علم سیکھنا اور دینی مسائل کا حل پوچھنا چاہئے۔
➋ دین کا دارومدار سندوں پر ہے، لہٰذا ہر بےسند بات مردود ہے۔
➌ اہل بدعت سے اجتناب کرنا چاہئے۔
➍ آثار سے استدلال جائز بلکہ مستحسن ہے۔
➎ اثر مذکور صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے اور اس کی سند امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔
➏ اپنے متعلقین اور عام لوگوں کی تربیت کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 273]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 26
محمد بن سیرینؒ کا قول ہے: کہ یہ علم (علمِ حدیث) دین ہے، لہٰذا سوچ لو تم کن سے اپنا دین لیتے ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:26]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جس طرح حیوان (جانور)
پاؤں کے بغیر نہیں چل سکتا،
اس طرح حدیث بلا سند قبول نہیں کی جاسکتی۔
اگر سند کا سوال نہ ہوتا تو ہرشخص بلاتحقیق وتفتیش بات سنتا اور آگے بیان کر دیتا،
اوروہ دین ٹھہرتی،
اس طرح دین کی حفاظت ودفاع سند سے ہو سکتی ہے،
اس کے بغیر اس کو آمیزش اور بدعات سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 26]