مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ما يجب فعله فى مكان يشيع فيه السود)
جس جگہ سود کا رواج ہو تو وہاں کیا کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2833
2833 - وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَقَالَ:"إِنَّكَ بِأَرْضٍ فِيهَا الرِّبَا فَاشٍ، فَإِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوبردہ بن ابوموسی ٰ بیان کرتے ہیں، میں مدینہ گیا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا: تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود عام ہے، جب تمہارا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ گھاس کا ایک گٹھا یا جو یا جنگلی ہرے چارے کا ایک گٹھا بطور ہدیہ بھیجے تو اسے نہ لو کیونکہ وہ سود ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3814)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2833 in Urdu