مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10531
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ" , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ مَنْ أَبِي , يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ بْنُ قَيْسٍ" , فَرَجَعَ إِلَى أُمِّهِ , فَقَالَتْ: وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ , فَقَدْ كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ , وَأَهْلَ أَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ , فَقَالَ لَهَا: إِنْ كُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِي , مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوتے تھے اس لئے تم لوگ مجھ سے زیادہ سوال مت کیا کرو الاّ یہ کہ میں خود ہی تمہیں کچھ بتادوں حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے اسی اثناء میں پوچھا یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ بن قیس ہے یہ سن کر وہ ماں کے پاس آئے وہ کہنے لگی کہ تمہیں یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہم زمانہ جاہلیت میں رہتے اور اعمال قبیحہ کے مرتکب ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ مجھے یہ معلوم ہو کہ میرا باپ کون ہے اور عام آدمی کون ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10531]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7288، م: 1337
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة متقن |
Musnad Ahmad Hadith 10531 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي