مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ، حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ، وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ، لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ".
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، انتظار کرتے کرتے رات کا ایک تہائی حصہ بیت گیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا اپنی اپنی جگہ پر ہی بیٹھو، لوگ اپنے اپنے بستروں میں جاچکے، لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو، تم برابر نماز میں ہی شمار ہوئے، اگر ضعفاء کی کمزوری، بیماروں کی بیماری اور ضرورت مندوں کی ضرورت کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں یہ نماز رات کے ایک حصہ تک مؤخر کردیتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11015]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 11015 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري