مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: فَإِنِّي لَا أُرْوَى بِنَفَسٍ وَاحِدٍ، قَالَ:" أَبِنْهُ عَنْ فِيكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ"، قَالَ: فَإِنْ رَأَيْتُ قَذَاءً؟ قَالَ:" فَأَهْرِقْهُ".
ابوالمثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لے لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11279]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أبو المثنى الجهني، أبو المثنى أبو المثنى الجهني ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥أيوب بن حبيب الزهري أيوب بن حبيب الزهري ← أبو المثنى الجهني | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← أيوب بن حبيب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة حافظ إمام |
أبو المثنى الجهني ← أبو سعيد الخدري