الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسند ابي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 11654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حدثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَرْوَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ : هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَفَّسَ وَهُوَ يَشْرَبُ فِي إِنَائِهِ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: نَعَمْ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ:" فَإِذَا تَنَفَّسْتَ فَنَحِّ الْمَاءَ عَنْ وَجْهِكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أَرَى الْقَذَاةَ فَأَنْفُخُهَا؟ قَالَ:" فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَأَهْرِقْهَا، وَلَا تَنْفُخْهَا".
ابو المثنیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان کے پاس تھا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، مروان نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشروبات میں سانس لینے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی کہنے لگا میں ایک ہی سانس میں سیراب نہیں ہوسکتا، میں کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا برتن کو اپنے منہ سے جدا کر کے پھر سانس لیا کرو، اس نے کہا کہ اگر مجھے اس میں کوئی تنکا وغیرہ نظر آئے تب بھی پھونک نہ ماروں؟ فرمایا اسے بہا دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11654]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، فليح بن سليمان- وإن تكلم بعض الأئمة فى حفظه- توبع
الرواة الحديث:
أبو المثنى الجهني ← أبو سعيد الخدري