مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 13996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، وَمَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ وَجَبَتْ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ الْأَوَّلُ: وَجَبَتْ، وَقَوْلُكَ الْآخَرُ: وَجَبَتْ. قَالَ:" أَمَّا الْأَوَّلُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقُلْتُ: وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقُلْتُ: وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کردو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کردو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13996]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 13996 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري