مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَعْتَقَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، عَلَى دُبُرٍ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَبْتَاعُهُ مِنِّي؟"، فَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَا أَبْتَاعُهُ، فَابْتَاعَه، فَقَالَ عَمْرٌو، قَالَ جَابِرٌ: غُلَامٌ قِبْطِيٌّ، وَمَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ، زَادَ فِيهَا أَبُو الزُّبَيْرِ، يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا (جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا) کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس حالت کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا؟ نعیم بن عبداللہ کہنے لگے کہ میں اسے خریدتا ہوں چنانچہ انہوں نے اسے خرید لیا، وہ غلام قبطی تھا اور پہلے ہی سال مر گیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14133]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6716، م: 997
الرواة الحديث:
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري