مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى مَاءً، فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى، قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا خَمَّرْتَهُ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا"، قَالَ: ثُمَّ شَرِبَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا، ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کو نبیذ نہ پلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا جس میں نبیذ تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے کسی چیز سے ڈھک کیوں نہ لیا؟ اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14367]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← جابر بن عبد الله الأنصاري