الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً" فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى، نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ، وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا أَهْدَيْتُ، حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، قَالَ" بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم یعنی صحابہ رضی اللہ عنہما نے صرف حج کا احرام باندھا، اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہو نے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، تم حلال ہو جاؤ اور اسے عمرہ بنا لو، وہ مزید کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے کہا، جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس طرح حالت احرام میں ہی رہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14409]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← ابن جريج المكي | ثقة حجة حافظ |
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري