مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي، فَقُتِلْتُ: صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ:" نَعْم، إِنْ لَمْ تَمُتْ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ، لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس نے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جبکہ تم اس حال میں مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14490]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وھو متابع، و عبد اللہ بن محمد بن عقیل حسن الحدیث في المتابعات والشواھد
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14490 in Urdu
عبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري