مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 14522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ، وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا، كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کے لئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14522]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3576، م: 1856
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14522 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري