یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 15013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً، أَوْ قَالَ: فَنَخَسَهُ نَخْسَةً، قَالَ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ، إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ , قَالَ: فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَادَنِي، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ، قَالَ:" أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا؟"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا , وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کو ڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ پہنچ کر۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 15013]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 15013 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← جابر بن عبد الله الأنصاري