مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مسند جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 15175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الْمَشْرِقِ , وَيُومِئُ إِيمَاءً عَلَى رَاحِلَتِهِ , السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , قَالَ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ , قَالَ:" مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا؟ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا، دو مرتبہ اس طرح ہوا، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 15175]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري | ثقة حافظ |
Musnad Ahmad Hadith 15175 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري