مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
197. حديث معن بن يزيد السلمي رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 15860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ، فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا , فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ، وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ".
سیدنا معن بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے میرے والد اور دادا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیغام نکاح پر خطبہ پڑھ کر میرا نکاح کر دیا میرے والد یزید نے کچھ دینار صدقہ کی نیت سے نکالے اور مسجد میں ایک آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیئے وہ آدمی میں ہی تھا میں نے وہ دینار لئے اور ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگا کہ کہ میں نے تمہیں یہ دینار نہیں دینا چاہے تھے میں یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یزید تمہیں اپنی نیت کا ثواب مل گیا اور معن جو تمہارے ہاتھ لگ گیا وہ تمہارا ہو گیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15860]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1422، مصعب بن المقدام و محمد بن سابق مختلف فيهما وقد توبعا
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 15860 in Urdu
حطان بن خفاف الجرمي ← معن بن يزيد السلمي