مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
265. باقي حديث محمد بن مسلمة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 16029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ، فَإِذَا فُسْطَاطٌ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا، فَاضْرِبْ بِهِ عُرْضَهُ، وَاكْسِرْ نَبْلَكَ، وَاقْطَعْ وَتَرَكَ، وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ" فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ. وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً:" فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" , فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ. ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرْهِبُ بِهِ النَّاسَ.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا: کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر یں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے اور اختلافات ہوں گے جب ایسا ہو نے لگے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہو گیا ہے اور میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بےنیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16029]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن مسلمة الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← محمد بن مسلمة الأنصاري | ثقة | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري | ضعيف الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن |
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← محمد بن مسلمة الأنصاري