الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
272. حديث أبى أسيد الساعدي رضي الله عنه
حدیث نمبر: 16062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا , يَقُولُ: أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ،" فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ، فَكَانَتْ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ , قَالَ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْقَعَتْ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلَةِ فِي تَوْرٍ".
ایک مرتبہ سیدنا ابواسید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دی اس دن ان کی بیوی نے ہی دلہن ہو نے کے باوجود ان کی خدمت کی سیدنا ابواسید نے لوگوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا میں نے ایک برتن میں رات کو کھجوریں بھگودیں تھیں ان ہی کا پانی (نبیذ) تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16062]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5176، م: 2006
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي