مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
291. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ الزّبَیرِ بنِ العَوَّامِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 16103
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَنَهَى" عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا، فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَلْيَسْأَلْهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ، فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللَّهِ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا، وَأَصَابُوا النِّسَاءَ".
ابواسحق بن یسار کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مکہ مکر مہ میں ہی تھے جب سیدنا عبداللہ بن زبیر ہمارے یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک ہی سفر میں حج وعمرہ کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا: سیدنا ابن عباس کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کو اس مسئلے کا کیا پتہ انہیں یہ مسئلہ اپنی والدہ سیدنا اسماء بنت ابی بکر سے معلوم کرنا چاہیے اگر سیدنا زبیر ان کے پاس حلال ہو نے کی صورت میں نہیں آتے تھے تو کیا تھا سیدنا اسماء کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا: اللہ ابن عباس کی بخشش فرمائے واللہ انہوں نے بےہو دہ بات کی گو کہ بات سچی ہے کہ عمرو بھی حلال ہو گئے تھے اور ہم عورتیں بھی اور مرد اپنی بیویوں کے پاس آئے تھے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16103]
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16103 in Urdu
إسحاق بن يسار المطلبي ← عبد الله بن الزبير الأسدي