مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
305. حديث هشام بن عامر الانصاري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 16258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبَلْ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا".
سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کر لے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کو سلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مرگئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16258]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
معاذة بنت عبد الله العدوية ← هشام بن عامر الأنصاري