مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
342. وقال أبو النضر فى حديثه : ابن راعي العير من أشجع
حدیث نمبر: 16519
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَجَاءَ عَيْنُ الْمُشْرِكِينَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَتَصَبَّحُونَ، فَدَعَوْهُ إِلَى طَعَامِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَكِبَ عَلَى رَاحِلَتِهِ َذَهَبَ مُسْرِعًا لِيُنْذِرَ أَصْحَابَهُ، قَالَ سَلَمَةُ: فَأَدْرَكْتُهُ، فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَهُ، وَضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَغَنَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی (مہمان ظاہر کر کے) کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہو تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کر سکے، میں نے اس کا پیچھا کر کے اس کی سواری کو بٹھایا اور اس کی گردن اڑادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سازوسامان مجھے بطور انعام کے دے دیا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16519]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1754
الرواة الحديث:
إياس بن سلمة الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي