مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حديث معاوية بن ابي سفيان
حدیث نمبر: 16921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ، فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ، وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ، فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللّٰہ ہے، اس لیے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لیے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرف ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16921]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة ضعيف، لكنه توبع
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16921 in Urdu
عبد الله بن عامر اليحصبي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي