مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
551. حديث عمرو بن العاص عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ، قَالَ: أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَبَى قَالَ: فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا، قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ" .
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد بن ابی بکر قیدی بنا کر لائے گئے، عمرو نے ان سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، ان کی خواہش تھی کہ وہ ان سے امان طلب کریں، چنانچہ وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمام مسلمانوں کے سامنے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے (اور پھر اس کی حفاظت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17765]
حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المصري
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← عمرو بن العاص القرشي