مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
606. حديث المستورد بن شداد رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18017
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ، فَسَمِعَ الْمُسْتَوْرِدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ وَلِيَ عَمَلًا فَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةً فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ خَادِمًا فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ مَسْكَنًا، أَوْ دَابَّةً فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، فَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ، فَهُوَ غَالٌّ سَارِقٌ" ..
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن اور چور شمار ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18017]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع بدون الجملة: «فمن أصاب….»
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن جبير المؤذن ← المستورد بن شداد القرشي