مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
669. حديث البراء بن عازب رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18608
قال: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَن أَبِي الْجَهْمِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ، إِذْ جَاءوا، فَطَافُوا بِفِنَائِي، فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا، فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ، حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ" .
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ میرا ایک اونٹ گم ہوگیا میں اس کی تلاش میں مختلف گھروں کے چکر لگارہا تھا اچانک مجھے کچھ شہسوار نظر آئے وہ آئے اور انہوں نے اس گھر کا محاصرہ کرلیا جس میں میں تھا اور اس میں سے ایک آدمی کو نکالا اس سے کچھ پوچھا اور نہ ہی کوئی بات کی بلکہ بغیر کسی تاخیر کے اس کی گردن اڑادی جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔ [مسند احمد/أول مسند الكوفيين/حدیث: 18608]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
الرواة الحديث:
سليمان بن الجهم الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري