مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
692. حديث جندب البجلي رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18801
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ، يَقُولُ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18801]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1797
الرواة الحديث:
الأسود بن قيس العبدي ← جندب بن عبد الله البجلي