مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
811. ومن حديث سمرة بن جندب عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 20078
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ أَفْلَحَ وَلَا نَجِيحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ، أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ؟ قَالُوا: لَا" .
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بچوں کا نام افلح، نجیح (کامیاب) یسار (آسانی) اور رباح (نفع) مت رکھو، اس لئے کہ جب تم اس کا نام لے کر پوچھو گے کہ وہ یہاں ہے تو لوگ کہیں گے کہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20078]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2137
الرواة الحديث:
الربيع بن عميلة الفزاري ← سمرة بن جندب الفزاري