یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
818. حديث معقل بن يسار رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20305
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أَحْسَنَ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا" .
حضرت معقل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں اپنی قوم میں فیصلے کیا کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اچھی طرح فیصلہ نہیں کرنا جانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی کے ساتھ اللہ ہوتا ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20305]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، نفيع بن الحارث متروك متهم
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 20305 in Urdu
نفيع بن الحارث الهمداني ← معقل بن يسار المزني