مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، أَيُّ وَادٍ هَذَا؟" , قَالَ: وَادِي عُسْفَانَ، قَالَ:" لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر وادی عسفان پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے ابوبکر! یہ کون سی وادی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: وادی عسفان، فرمایا: ”یہاں سے حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام ایسی سرخ جوان اونٹنیوں پر ہو کر گزرے ہیں جن کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی، ان کے تہبند عباء تھے اور ان کی چادریں چیتے کی کھالیں تھیں اور وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے حج کے لئے جارہے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2067]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، زمعة ضعيف وسلمة بن وهرام مختلف فيه.
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي