مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
950. حديث أبى ذر الغفاري رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 21438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى أَبِي يَعْلَى ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ تَنْتَطِحَانِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ابوذر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ جانتا ہے اور عنقریب ان کے درمیان بھی فیصلہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21438]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أشياخ منذر الثوري
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← أبو ذر الغفاري