مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
951. حديث زيد بن ثابت عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21630
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ : أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ فَرَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوا مَعَهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَانِ، فِرْقَةٌ تَقُولُ بِقَتْلِهِمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ لَا، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ، فَرِيقًا يَقُولُونَ: بِقَتْلِهِمْ، وَفَرِيقًا يَقُولُونَ: لَا، قَالَ بَهْزٌ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ"، حَدَّثَنَاه عَفَّانُ، وَقَالَ: فِيهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ بَهْزٍ .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو لشکر کے کچھ لوگ راستے ہی سے واپس آگئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے اور گروہ ثانی کہتا تھا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ ہے یہ گندگی کو اسی طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21630]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن يزيد الأوسي ← زيد بن ثابت الأنصاري