مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
956. حديث الأشعث بن قيس الكندي رضي الله عنه
حدیث نمبر: 21840
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أخبرَنَا مُجَالِدٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ , قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ , فَقَالَ لِي:" هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ؟" , قُلْتُ: غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنَ ابْنَةِ جمَدٍّه , وَلَوَدِدْتُ أَنَّ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ , قَالَ: " لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ , فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا , ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ , إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ , إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ" .
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں کندہ کے وفد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا تو بنت جمد سے میرے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تھا میری تو خواہش تھی کہ اس کی بجائے لوگ ہی سیراب ہوجاتے تو بہت اچھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے مت کہو کیونکہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈگ ہوتی ہے اور گر فوت ہوجائے تو باعث اجر ہوتی ہے ہاں اگر کچھ کہنا ہی ہے تو یوں کہو کہ اولاد بزدلی کا اور غم کا سبب بن جاتی ہے (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21840]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مجالد ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أشعث بن قيس الكندي، أبو محمد | صحابي | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← أشعث بن قيس الكندي | ثقة | |
👤←👥مجالد بن سعيد الهمداني، أبو سعيد، أبو عمير، أبو عمرو مجالد بن سعيد الهمداني ← عامر الشعبي | ضعيف الحديث | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← مجالد بن سعيد الهمداني | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥سريج بن النعمان الجوهري، أبو الحسن، أبو الحارث، أبو الحسين سريج بن النعمان الجوهري ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
Musnad Ahmad Hadith 21840 in Urdu
عامر الشعبي ← أشعث بن قيس الكندي