مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22166
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْإِثْمُ؟ قَالَ:" إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو اس نے پوچھا کہ گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22166]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 22166 in Urdu
ممطور الأسود الحبشي ← صدي بن عجلان الباهلي