مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا جَرِير ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ، وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہو جائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں)، ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2327]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3349، م: 2860 ، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي