مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حديث حذيفة بن اليمان عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 23457
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَابرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبرِ، قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبرُكُمْ بشَرِّ عِبادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبرُ، أَلَا أُخْبرُكُمْ بخَيْرِ عِبادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنازے میں تھے جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ کر بار بار اس میں دیکھنے لگے پھر فرمایا کہ مسلمان کو قبر میں ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے جس سے اس کے سارے بوجھ دور ہوجاتے ہیں اور کافر پر آگ کو بھر دیا جاتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ کا بدترین بندہ کون ہے؟ ہر تندخو اور متکبر۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور آدمی جسے دبایا جاتا ہو، پرانی چادروں والا ہو، لیکن ہو ایسا کہ اگر اللہ کے نام پر کسی کام کی قسم کھالے تو وہ اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23457]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر ، ولانقطاعه ، فإن أبا البختري لم يدرك حذيفة
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي عمران الطائي ← حذيفة بن اليمان العبسي